قیام مکہ کے دوران کرنے کے کام

قیام مکہ کے دوران کرنے کے کام

عمرہ کے بعد جب تک مکہ مکرمہ میں قیام کریں زیادہ سے زیادہ وقت حرم شریف میں گزاریں۔

حرم شریف کی سب سے بڑی افضل عبادت طواف کو معمول بنائیں۔ جتنے طواف بھی کر سکیں کریں۔

حرم شریف میں بیٹھ کر غور کریں کہ حج کے سارے مناسک جس عظیم ہستی (حضرت ابراہیم علیہ السلام) کے گرد گھومتے ہیں ان کی پوری زندگی آزمائشوں اور امتحانات کا مجموعہ ہے۔ ہماری زندگی میں قدم قدم پر امتحانات ہیں ہمیں ان کی زندگی سے رہنمائی حاصل کرنی ہے۔

حرم شریف میں تلاوت قرآن مجید کو خصوصی معمول بنائیں اور ایک منزل یومیہ کے حساب سے ہر ہفتہ میں قرآن مجید ختم کریں۔ حرم شریف میں بیٹھ کر یہ فیصلہ کر لیں کہ اب مجھے قرآن مجید کی طرف لوٹ آنا ہے۔ جان لیجئے کہ ہر مسلمان پر قرآن مجید کے درج ذیل پانچ حقوق ہیں۔

اس پر ایمان لایا جائے۔          

اس کی تلاوت کو معمول بنایا جائے اور اس کے قدر دان کی حیثیت سے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔          

اسے سمجھا جائے۔          

اس کے ہر حکم پر عمل کیا جائے۔          

اسے دوسروں تک پہنچایا جائے۔          

یہ فیصلہ کریں کہ جتنی مہلت عمر بقایا ہے وہ حقیقی معنوں میں اللہ کے بندے کی حیثیت سے گزرے گی۔

حضور ﷺ اور ان سے پہلے بہت سے انبیائے کرام ملتزم پر اپنا سینہ لگا کر روئے ہیں۔ جب آپ کو یہ سعادت نصیب ہو جائے تو یہاں یہ عہد کر لیں کہ آئندہ آپ اپنے چہرے پر کبھی اُسترا نہیں پھیریں گے۔

ہر نماز کے لئے وقتمقررہ سے کافی پہلے پہنچیں اور تکبیر اولیٰ کی فکر کریں۔ جمعۃ المبارک کی ادائیگی کے لئے 11بجے تک پہنچنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

فرض نمازوںکی ادائیگی کے بعد حرمین شریفین میں اجتماعی دعا نہیں مانگی جاتی ۔ تقریباً ہر نماز کے بعد نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔ آپ فرض نماز کے بعد آیت الکرسی اور تسبیحات پڑھ کر انتظار کریں اور نماز جنازہ کے بعد سنتیں وغیرہ پڑھیں۔

غار حرا، غار ثور، جنت المعلیٰ، مجس جن، مسجد الرایہ اور مولت رسول ﷺ ممتاز زیارات ہیں۔

ایام حج سے پہلے اتنی کثرت سےریاضت نہ کریں کہ آپ بیمار ہو جائیں اور آپ کا حج متاثر ہو۔

پورے طواف کے دوران پاکی اور وضو قائم رہنا شرط ہے۔

وضو ٹوٹنے کی صورت میں فوراً حرم شریف سے باہر نکلیں ااور وضو کی تجدید کریں۔

طواف سے پہلے خواتین اطمینان کر لیں کہ وہ جماعت سے کافی پہلے فارغ ہو کر اپنی مخصوص جگہوں پر پہنچ جائیں۔

مرد حضرات اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ اپنی عورتوں کو حرم شریف میں مردوں کے ساتھ کھڑا نہ ہونے دیں۔

جو خواتین شرعی پردہ کی پابندی نہیں کرتیں وہ حرم شریف میں یہ عہد کریں کہ وہ آئندہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں پردہ کا اہتمام کریں گی اور وہ اس کا آغاز حرم شریف ہی سے کریں۔

آج کل مرد اور عورتیں چونکہ اکٹھے طواف کرتے ہیں اس لئے ہجوم کی وجہ سے خواتین کے اعضا مردوں کو لگ جاتے ہیں۔ یہ سخت گناہ ہے۔ لہٰذا ہر ممکن احتیاط لازم ہے۔

حرم شریف میں نماز کے دوران سمت قبلہ کی احتیاط کریں۔ نماز میں بیت اللہ کی طرف کرنا شرط ہے۔ حطیم جو اگرچہ بیت اللہ شریف کا حصہ ہے۔ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا جائز نہیں۔

حرم شریف میں بیٹھ کر یہ فیصلہ کر لیں کہ سود، جوئے، سٹے، لاٹری، دو طرفہ آڑھت اور خرید و فروخت کی جملہ حرام صورتوں سے کلی اجتناب کریں گے

Share the Work