حج ادا کرنے کا طریقہ

حج ادا کرنے کا طریقہ

ذی الحجہ7 " یوم الزینت "

آج عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھولنے والے یعنی حج تمتع کرنے والے عازمین حج غسل کریں، حجامت بنوائیں، مونچھیں ترشوائیں، جسم کے غیر ضروری بال صاف کریں، میک اپ وغیرہ کی صفائیں کریں، کانچ کی چوڑیاں اتار دیں۔

گروپ لیڈر حضرات اپنے مکتب (معلم) سے ایام حج میں ٹرانسپورٹ وغیرہ کا شیڈول معلوم کریں اور اپنے گروپ کو آگاہ کریں۔منیٰ اور عرفات میں اپنے مکتب کو تلاش کرنے کے لئے لوکیشن میپ (Location Map) حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

پانچھ چھ دنوں کے لئے ضروری سامان تیار کریں۔ چھوٹا بیگ کھانے پینے کی چیزیں، احرام کی چادروں کے سیٹ ، ایک جوڑا سلے کپڑے، ہوائی چپل، فولڈنگ چھتری، قربانی وغیرہ کے اخراجات اور مطالعہ کے لئے دینی کتب بالخصوص یہ کتابچہ ساتھ لیں۔ اس کے علاوہ ایک عدد میٹ (Haji Mat) ضرورلیں۔ موسم کے مطابق مزدلفہ میں رات کے قیام کے لئے کمبل وغیرہ بھی لیں۔

خدمت خلق کے لئے جو خواتین و حضرات عہد کر چکے ہوں وہ باہمی مشورہ سے یہ طے کر لیں کہ وہ اپنے ساتھی حجاج کی خدمت کس کس طرح کر سکتے ہیں۔

8ذی الحجہ (یوم الترویہ)

عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھولنے والے یعنی حج تمتع کرنے والے خواتین و حضرات کو اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھنا چاہئے۔ یہ فرض ہے۔

احرام باندھتے ہوئے ناف کا ڈھانپنا ، خواتین کا چہرے اور ہاتھوں کے سوا مکمل ستر کا اہتمام کرنا، آستینوں کا پورا ہونا، گلا بند ہونا، سینہ ڈھکا ہونا ضروری ہے۔

حالت حیض یا نفاس کے باوجود خواتین کا احرام باندھنا ہے۔

اپنے کپڑے یا جسم کی کوئی جوں بھی نہیں ما رسکتے۔ کنگھی نہیں کر سکتے۔

اگر بیماری کا خوف نہ ہو تو حیض و نفاس والی خواتین کو احرام باندھنے سے پہلے غسل کرنا چاہیے۔ حالت احرام میں خواتین کے لئے منہ کھولے رہنے کا حکم ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ اجنبی مردوں کے سامنے بھی اپنے چہرے بالکل کھلے رکھیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

’’ہم عورتیں حج میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں تھیں جب ہمارے سامنے سے مرد گزرتے تو ہم اپنی چادریں سر کے اوپر سے لٹکا لیتی تھیں۔‘‘

فی سبیل اللہ خدام الحجاج اپنے کاموں میں مگن رہیں اور خدمت حجاج کرتے رہیں۔

احرام باندھ کر اپنے معلم کے پروگرام کے مطابق منیٰ کے لئے روانہ ہوں۔ معلم کی بسیں اگر لیٹ ہو جائیں تو صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور تلبیہ پڑھتے رہیں۔

منیٰ میں آج آپ ظہر، عصر، مغرب اور عشا ء کی نمازیں پڑھیں اور رات منیٰ ہی میں بسر کریں۔

سارا دن ذکر و فکر میں گزار دیں اور ایک لمحہ بھی گپ شپ میں نہ گزاریں۔

9ذی الحجہ (یوم عرفہ)

9ذی الحجہ کو سورج طلوع ہونے کے بعد منیٰ سے عرفات روانہ ہونا سنت ہے۔

راستے میں تکبیر و تہلیل اور تلبیہ پکارنا سنت ہے۔

وقوف عرفہ فرض ہے اگر یہ رہ جائے تو حج ادا نہیں ہوتا۔ فدیہ، دم یا بدنہ اس کی تلافی ممکن نہیں۔

چوتھائی داڑھی یا اس سے زیادہ کے بال کاٹنا، مونڈھنا، اکھاڑنا۔

لاعلمی یا غلطی سے وادی عرفات کے بجائے وادی نمرہ میں وقوف کیا تو حج ادا نہیں ہوگا۔

پورا راستہ تلبیہ پکارتے چلے جائیں اس احساس کے ساتھ کہ میرا مولا مجھے بلا رہا ہے اور میں اس کے بلاوے پر لبیک اللہ لبیک یعنی حاضر ہوں پکار رہا ہوں۔

عرفات پہنچ کر اگر زوال میں وقت ہو تو تھوڑا سا آرام کر لیں جب زوال کا وقت آئے تو غسل کر لیں لیکن میل کچیل ہر گز نہ اتاریں اور تیاری کر کے مسجد نمرہ میں پہنچ جائیں، بشرطیکہ آپ وہاں آسانی سے پہنچ سکتے ہوں اور واپس آنے کے لئے اپنا خیمہ پہنچان سکتے ہوں۔

مسجد نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ امام اکٹھی پڑھائے گا۔

اگر مسجد نمرہ نہ جائیں تو اپنے خیمے ہی میں نمازیں ادا کریں یاد رکھیں ریڈیو کی آواز پر نما زنہ پڑھیں۔

وقوف عرفہ کا طریقہ بڑا سیدھا سادا ہے۔ افضل تو یہ ہے کہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر اور مغرب تک حتیٰ الامکان کھڑے رہیں۔ اللہ کے سامنے رونے، گڑگڑانے اور دعائیں مانگنے میں مصروف رہیں۔ تاہم اگر کھڑے ہونےمیں دقت ہو تو جس قدر کھڑے ہو سکتے ہوں کھڑے رہیں پھر بیٹھ جائیں اور پھر کھڑے ہو جائیں۔

وقوف عرفات کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں۔ آج رونے اور مانگنے میں کوئی کمی نہ کریں۔ دنیا اور آخرت کی ساری ضرورتیں مانگ لیں۔

آج سچے دل سے توبہ کرلیں۔ خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ توبہ کی قبولیت کی تین شرطیں ہیں۔

بندہ پچھلے گناہوں پر اللہ کے حضور شرمندگی کا اظہار کرے۔

اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے معافی مانگے۔

آئندہ اس گناہ سے بچنے کا پختہ عزم کرے۔

میدان عرفات میں یہ عہد کریں کہ اب باقی زندگی اللہ کے سچے بندے کی حیثیت سے گزرے گی اور اللہ تعالیٰ سے اس عزم پر قائم رہنے کی توفیق مانگ لیں۔

یاد رکھیں! حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ سب سے بڑا گناہ گار وہ ہے جو عرفات میں قیام کرے اور پھر بھی یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت نہیں فرمائی۔

اپنی دعاؤں میں اس کتابچہ کے مرتب، ناشر اور جملہ معاونین کے بارے میں یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی حج کی بار بار سعادت نصیب فرمائے، ان کے گناہ معاف کر دے، انہیں خدمت خلق کی سچی لگن عطا فرما دے اور ان سے خدمت کے وہ کام لے لے جن سے تیری رضا حاصل ہو جائے احسان عظیم ہوگا۔

عورتیں ناپاکی کی حالت میں ہوں توقوف عرفہ کریں اور ماسوائے نماز وہ سارے اعمال کریں جو مرد کرتے ہیں خواتین اطمینان رکھیں کہ ان کے ثواطب میں قطعی کوئی کمی نہ ہوگی۔

آج میدان عرفات میں جو جتنا بڑا بھکاری بن کر آتا ہے اتنا ہی زیادہ عز و شرف کا مستحق ٹھہرتا ہے جو شخص جتنا زیادہ ہاتھ پھیلانے کے آداب سے واقف ہوگا اتنا ہی زیادہ اعزاز و اکرام پائے گا۔

وقوف عرفات کے دوران چشم تصور میں لائیے کہ اسی مقام پر جب حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبہ کے اختتام پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ:

’’اے مسلمانو! اب دین کی ذمہ داری تمہارے کندھے پر آ گئی ہے۔ میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے اب تمہیں سارے عالم میں پہنچانا ہے۔ سوچئے ہم اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں یا نہیں اور اگر نہیںکر رہے تو آج تجدید عہد کا دن ہے۔ عرفات سے واپسی سے پہلے عہد کر کے آئیں۔‘‘

میدان عرفات میں وقوف کرتے کرتے جب آفتاب غروب ہو جائے تو مغرب کی نماز پڑھے بغیر مزدلفہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔

مزدلفہ سے اطمیان، سکون،سنجیدگی اور وقار کے ساتھ واپسی سنت ہے۔ مزدلفہ سے واپس منیٰ آتے ہوئے وادی محسر سے تیزی کے ساتھ گزرنا چاہیے۔

منیٰ سے مزدلفہ آتے ہوئے تلبیہ پڑھنا سنت ہے۔

مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اس طرح پڑھیں کہ ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ پہلے مغرب کے تین فرض اور اس کے فوراً بعد عشاء کے چار فرض ادا کریں پھر ان سے فارغ ہو کر پہلے مغرب کی دو سنتیں اور تین وتر پڑھیں۔

نمازوں سے فارغ ہو کر یکسوئیا ور دلجمعی کے ساتھ ذکر و عبادت اور دعا، استغفار میں مشغول ہو جائیں۔ یاد رکھیں! مزدلفہ میں یہ قیام واجب ہے۔

بعض حضرات کے نزدیک شب مزدلفہ، شب قدر سے بھی افضل ہے رات کو آرام کر لیں، کیونکہ اگلے دن آپ کو بہت سے کام کرنے ہیں۔

فجر کی نماز کا وقت ہوتے ہی اوّل وقت میں فجر کی نماز پڑھیں اور تلبیہ پڑھ کر قبلہ رو کھڑے ہو کر توبہ و استغفار میں مصروف ہو جائیں۔ نماز فجر کی ادائیگی کے وقت کے بارے میں احتیاط کریں مبادا آپ وقت شروع ہونے سے پہلے نماز پڑھ کر ضائع کر لیں۔

طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک مزدلفہ میں قیام واجب ہے۔

مزدلفہ چھوڑنے سے پہلے اس میدان سے 70 کنکریاں موٹے چنے یا لوبیا کے دانے کے برابر اُٹھا کر ساتے لے لیں۔ اس سے بڑی کنکریان مارنا یا جوتا مارنا خلاف سنت ہے۔ 10ذی الحجہ

وقوف مزدلفہ سے فارغ ہو کر جب سورج نکلنے کا وقت بالکل قریب آ جائے تو مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ ہو جائیں۔

منیٰ پہنچ کر انے مکتب کے ٹائم ٹیبل کے مطابق جمرہ عقبیٰ پر جائیں، سات کنکریاں ساتھ لے جائیں۔ جمرات جاتے وقت اپنا سامان اپنے ساتھ نہ لے جائیں اپنا سامان اپنے خیمے میں ہی چھوڑ جائیں۔ یہاں تلبیہ پڑھنا بند کر دیں اور شیطان کو پے در پے کنکریاں ماریں۔ رمی جمار کے بعد یہ دعا مانگیں۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّ ذَنْبًا مَغْفُوْرًا

یاد رکھیں! جمرہ عقبیٰ کو کنکریاں مارنے کا مسنون وقت طلوع آفتاب سے زوال تک ہے اس کے بعد مغرب تک جائز ہے۔ یاد رکھیے! آپ کی ہر کنکری جمرہ کو لگنی چاہئے ورنہ وہ ضائع ہو جائے گی اور آ پ کو دوبارہ مارنا ہوگی۔

رمی سے فارغ ہو کر قربانی گاہ جائیں اور قربانی کریں جان لیجئے کہ قربانی کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک قربانی وہ ہے جسے ہدی (دم شکر) کہتے ہیں۔ یہ حج تمتع اور حق قرن کرنے والوں پر واجب ہے۔ اور دوسری قربانی عیدالاضحیٰ کی قربانی ہے جو ہر سال واجب ہے۔ قربانی کے بعد اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کریں کہ اب میں ہمیشہ اللہ کے حکم کے آگے اپنے جذبات کو قربان کروں گا۔ قربانی کے وقت یہ دعا مانگیں۔ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ط اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسْکِیْ وَ مَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ط اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ ط

قربانی سے فارغ ہو کر حلق کروائیں یا قصر کروا لیں۔ یاد رکھیں! حلق ( سر کے بال منڈوانا) افضل ہے۔ خواتین اپنے بال ایک انچ کے برابر کاٹ لیں یا اپنے محرم سے کٹوا لیں۔

حلق یا قصر کرواتے ہی آپ احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو گئے ہیں۔ اسے چھوٹا حلال یا التحلل الاصغر کہتے ہیں۔ اب آپ غسل کر لیں، میل کچیل اُتاریں اور مرد حضرات سلے کپڑے پہن لیں۔ اب صرف ایک پابندی باقی ہے وہ یہ کہ آپ طواف زیارت سے پہلے اپنی بیوی کے پاس نہیں جا سکتے۔

اب آپ مکہ مکرمہ روانہ ہو جائیں اور وہاں طواف زیارت کریں اس کے بعد صفا اور مروہ کی سعی کریں۔ سعی طواف زیارت کا واجب حصہ ہے اسے ترک نہ کریں۔ یہ طواف اور سعی آپ سلے ہوئے کپڑوں میں کریں گے۔

مبارک ہو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ احرام کی جملہ پابندیوں سے فارغ ہو گئے۔

طواف زیارت سے فارغ ہو کر آپ منیٰ واپس چلے جائیں۔ مکہ مکرمہ کسی جگہ رات نہ ٹھہریں۔

طواف زیارت اگر آپ 10ذی الحجہ کو نہ کر سکیں تو 11 یا 12 ذی الحجہ کو بھی کر سکتے ہیں کوئی حرج نہیں۔ تاہم بارہ ذی الحجہ کے بعد طواف بھی کرنا ہوگا اور ایک دم بھی دینا ہوگا۔ 11ذی الحجہ:

11، 12 اور 13ذی الحجہ کے بارے میں یہ جان لیجئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ے کہ ان دنوں میں اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جائے۔

آج آپ کو تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں مارنا ہیں۔ پہلے جمرہ اولیٰ (چھوٹے شیطان) پر سات کنکریوں سے رمی کریں اور ایک طرف ہٹ کر قبلہ رو ہو کر دعا کریں۔ پھر جمرہ وسطیٰ (درمیانے شیطان) پر آئیں اور سات کنکریاں ماریں اور اسی طرح دعا کریں۔ پھر جمرہ عقبیٰ (بڑے شیطان) پرآئیں یہاں بھی سات کنکریاں ماریں لیکن دعا نہ کریں۔ یاد رکھیں! بڑے شیطان پر کنکریاں مارنے کے بعد دعا نہ کرنا سنت ہے۔ 12ذی الحجہ

آج کا اصل کام صرف تینوں جمرات کی رمی کرنا ہے۔ زوال کے بعد بالکل اسی طریقہ سے تینوں جمرات کی رمی کریں جس طرح 11 ذی الحجہ کو کی تھی۔

اب آپ کو منیٰ میں مزید قیام کرنے یہ نہ کرنے کا اختیار ہے۔ اگر آپ 13تاریخ کو قیام نہیں کرنا چاہتے تو غروب آفتاب سے پہلے منیٰ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلے جائیں ورنہ آپ کو 13 تاریخ کو منیٰ میں قیام کرنا ہوگا۔

یہاں یہ بات جان لیجئے کہ اس دن حجاج کرام غیر معموی بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات پیش آتے ہیں۔ اموات ہوتی ہیں اس دن بلکہ گیارہ اور بارہ دونوں دن نماز عصر کے یا اپنے مکتب کے شیڈول کے مطابق بعد کنکریاں مارنا انتہائی آسان رہے گا۔

اب آپ کے ذمہ حج کے کاموں میں سے صرف ایک کام طواف وداع باقی رہتا ہے۔ جو آپ مکہ مکرمہ سے واپسی سے پہلے کریں گے۔

آپ طواف وداع سلے کپڑوں میں کریں۔ ملتزم پر آئیں تو رخصت کی نیت سے لپٹ لپٹ کر خوب روئیں اور دعا کریں کہ آپ کی یہ حاضریآخری حاضری نہ ہو۔

Share the Work