جنایات احرام و حج

جنایات احرام و حج

جنایات احرام و حج ممنوعات احرام و دیگر احکام حج کی خلاف ورزی کو جنایت کہا جاتا ہے۔ ان جنایات پر شریعت میں کچھ جزائیں مقرر ہیں۔

دم:      بکرا، بکری، بھیڑ یا ساتواں حصہ گائے۔

بدنہ:      پوری گائے یا پورا اونٹ

صدقہ:      چند ریال کسی مسکین کو دینا۔

احکام احرام کی کوئی خلاف ورزی ، خواہ ناواقفیت سے ہو یا خطا اور بھول سے یا کسی زبردستی سے یا مجبوری سے، خود کرے یا دوسرے سے کرائے، ہر حال میں جزا واجب ہوتی ہے۔

خطا، نسیان یا عذر سے خلاف ورزی سے گناہ نہیں ہوتا صرف جزا لازم آتی ہے، اور بلا عذر کرنے سے گناہ بھی ہوتا ہے اور جزا بھی لازم آتی ہے۔

جنایات کے ارتکاب سے صدقہ، دم یا بدنہ لازم آتا ہے بوت ضرورت کسی مستند عالم دین سے رجوع کریں۔ تاہم چند ضروری باتیں یاد رکھیں۔

جن باتوں کی جزا میں دم لازمآتا ہے وہ یہ ہیں۔

حالت احرام میں خوشبو کا ستعمال (کسی بڑے عضو، مثلاً سر یا داڑھی یا ہتھیلی پر لگانے سے دم، کم کی صورت میں صدقہ)

ھالت احرام میں پورا دن یا رات سلے ہوئے کپڑے کا استعمال۔

چوتھائی داڑھی یا اس سے زیادہ کے بال کاٹنا، مونڈھنا، اکھاڑنا۔

طواف زیارت سے قبل مرد یا عورت کا بوسہ لینا۔

حدود حرم میں بلا احرام داخل ہونا۔

حیض و نفاس کی حالت میں یا بغیر وضو طواف بیت اللہ کرنا

عرفات سے غروب آفتاب سے پہلے نکلنا۔

ایک دن کی کنکریاں چھوڑنا۔

جن حالتوں میںبدنہ (پوری گائے) لازم آتا ہے وہ یہ ہیں۔

حیض یا نفاس کی حالت میں طواف زیارت کرنا۔     

وقوف عرفہ کے بعد حلق سے پہلے جماع کرنا۔     

چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں پر صدقہ ادا کرنا چاہیے۔     

Share the Work