خواتین کے چند مسائل

خواتین کے چند مسائل

خواتین کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ سفر میں خواتین کے لئے خاوند یا محرم کا ہونا ضروری ہے۔ محرم وہ مرد ہوتا ہے جس سے تا زندگی نکاح حرام ہو، خواہ قرابت نسبتی کی وجہ سے یا قرابت رضاعی کی وجہ سے۔ کسی غیر محرم کو فرضی محرم بنانا اسلام اور قانون کے ساتھ مذاق ہے۔

بالوں کی حفاظت کے لئے سوا گز مربع کپڑا سر پر باندھا جا سکتا ہے، لیکن وضو کرتے ہوئے اسے اتارنا ضروری ہے۔

نیل پالش اور میک اب قطعی حرام ہے۔ نیل پالش کے ساتھ طہارت نہیں ہوتی۔ اس لے کہ ان مقامات پر پانی سرایت نہیں کرتا جو فرض ہے۔

خواتین کے لئے تلبیہ زور سے پڑھنا منع ہے۔

ہجوم کے وقت حجر اسود کو بوسہ دینے کی کوشش نہ کریں۔ یاد رکھیں کہ حجر اسود کو بوسہ دینا اگرچہ سنت نبوی ہے تاہم دوسروں کو اذیت دینا گناہ ہے۔

ہجوم کے وقت مقام ابراہیم پر نفل پڑھنا نہیں چاہئیں بلکہ حرم میں جہاں جگہ ملے پڑھ لیں۔

صفا اور مروہ کی سعی کے دوران خواتین کا دوڑنا منع ہے۔

خواتین حیض اور نفاس کے دوران:

احرام باند سکتی حیں          

احرام کے نفل نہیں پڑھ سکتیں۔          

خانہ کعبہ کا طواف اور سعی نہیں کر سکتیں۔          

طواف زیارت مؤخر ہو جائے تو دم واجب نہیں۔          

وقوف عرفات، منیٰ، مزدلفہ، قربانی کر سکتی ہیں۔          

اگر طوااف وداع نہ ہو سکے تو دم واجب نہیں۔          

استحاضہ کی صورت میں خواتین اپنے آپ کو نماز اور طواف سے محروم نہ کریں تاہم ہر نماز کے لئے مخصوص مقام پر کپڑا یا پیڈ باندھنا اور تازہ وضو کرنا ضروری ہے۔

خواتین کے لئے حالت عدت میں نہ ہونا بھی سفر حج کے لئے شرط ہے۔

Share the Work