پاکستان سے مکہ مکرمہ تک

پاکستان سے مکہ مکرمہ تک

اگر آپ بذریعہ ہوا ئی جہاز سفر کر رہے ہیں تو آپ کو اس احرام لاہور کراچی، کوئٹہ یا اسلام آباد سے ہی باندھ لیں تلبیہ ہوائی جہاز کے ٹیک آف کرنے یا میقات آنے پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔

احرام باندھنے کے بعد آپ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے تلبیہ پڑھئے۔

ائیر پورٹ پر ہوائی جہاز میں، ہوائی جہاز سے اتر کر ہر جگہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیجئے یاد رکھئے آپ کا یہ سفر بڑا قیمتی ہے اسے کسی بد عملی یا لڑائی جھگڑے میں ضائع نہ کریں۔

ہوائی جہاز یا کسی بھی سواری پر سوار ہونے کے بعد یہ دُعا پڑھیں:

سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلیٰ رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ

ترجمہ: ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے پابند کیا، حالانکہ ہم اس کو پابند کرنے کے قابل نہ تھے اور بے شک ہمیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘

جدہ ائیر پورٹ پہنچ کر آپ کو ائیر پورٹ سے باہر نکلنے میں پانچ چھ گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔لہٰذا یہاں بھی آپ نے صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑنا اور تلبیہ پڑھتے رہنا ہے۔ ویٹنگ لاؤنج میں پہنچنے کے بعد ہر مرد اور عورت کے پاس اپنا پاسپورٹ ہونا چاہیے ورنہ امیگریشن سے گزرتے ہوئے دشواری ہو سکتی ہے۔

بعض ناعاقبت اندیش پاکستانیوں کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے سعودی کسٹم حکام کا رویہ پاکستانیوں سے بعض اوقات بڑا سخت ہوتا ہے۔ آپ کو یہ سب کچھ برداشت کرنا چاہیے۔

کسٹم ہال سے نکلتے وقت یقین کر لیں کہ آپ کا تمام سامان آپ کے ساتھ ہے۔ ورنہ دوبارہ آپ کسٹم ہال میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

جدہ ائیر پورٹ سے مکتب (معلم) کی بسیں آپ کو مکہ مکرمہ لے جائیں گی۔

جب مکہ مکرمہ 23 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہوگا تو آپ کو ایک بہت بڑا بورڈ نظر آئے گا اور پھر ایک رحل نما پل ۔ یہاں سے حدود حرم شروع ہوتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کا خصوصی شکر ادا کیجئے اس نے آپ کو مسلمان بنایا اور پھر اپنے گھر بلایا۔

اور اب تلبیہ اہتمام سے پڑھئے اور مکہ مکرمہ میں ادب اور انکساری کے ساتھ داخل ہوں۔ یہاں عاشقانہ جانے کی ضرورت ہے۔ برہنہ سر، کفن بردوش، پریشان حال یہی مکہ مکرمہ جانے کے آداب ہیں۔

مکہ مکرمہ پہنچتے ہی اپنا سامان حفاظت سے اپنے ہوٹل، مکان یا معلم (مکتب) کے ڈیرہ پر رکھئے اگر کسی نماز کا وقت نہ ہو تو دو تین گھنٹے آرام کر لیجئے۔ تازہ دم ہوں اور پھر حرم نروانہ ہوں۔ روانگی سے پہلے ہوٹل یا مکان کا کارڈ لینا ہر گز نہ بھولیے۔

Share the Work