سفر حج کی تیاری

سفر حج کی تیاری

اللہ رب العزت نے آپ کو استطاعت دی ہے اور حج کے مقدس سفر کے لئے چن لیا ہے۔اس اعزاز پر ہماری طرف سے مبارک باد قبول کیجئے۔

اس مقدس سفر کے لئے ذہنی جسمانی مادی اور روحانی تیاری کر لیجئے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا خالص بندہ بننے کا سنرہی موقع عطا فرمایا ہے۔ اس عزاز کے تقاضوں کو سمھنا اور ان پر عمل کرنا ہی اللہ کے اس احسان کا اصلی شکر ہے۔

ایسے سنہری مواقع زندگی میں بار بار نہیں آیا کرتے۔ لہٰذا اسے اپنی زندگی کا قبلہ درست کرنے کا موقع سمجھئے۔

رب العالمین کی رضا اور محاسبہ اخروی میںکامیابی کا حصول اپنا نصب العین بنا لیجئے۔

اللہ تعالیٰ کا یہ حکم حرز جان بنا لیجئے جو سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 197 میں وارد ہوا ہے۔

اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ۝۰ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ۝۰ۙ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ۝۰ۭ

حج کے مہینے سب کو معلومہیں جو شخص ان مقررہ مہینوں میں حج کا قصد کرے اسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران کوئی شہوانی فعل، کوئی بع دملی اور کوئی لڑائی جھگڑے کی بات نہ ہو۔

اپنے چھوٹے بڑے گناہوں سے سچے دل سے توبہ کر لیجئے۔ ان پر شرمندگی کا اظہار اور آئندہ مکمل اجتناب کا عزم کر لیجئے۔

حقوق العباد کی ادائیگی کا اہتمام کر لیجئے اور اپنے معاملات نمٹا لیجئے۔

اپنی نماز کی ادائیگی کا طریقہ چیک کر لیجئے، مسائل نماز سیکھ لیجئے۔ نماز پنجگانہ کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ادائیگی کا پابندی سے اہتمام شروع کر دیجئے۔

حرمین شریفین میں تقریباً ہر نماز کے عبد نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ آپ نما زجنازہ کا طریقہ اچھی طرح سیکھ لیجئے اور نماز جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیںبھی یاد کر لیں۔

قرآن مجید کی تلاوت کو معمول بنا لیجئے اور اگر قرآن مجید صحیح تلفظ کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے تو حج پر روانگی سے پہلے قرآن مجید پڑھنا سیکھ لیجئے، اور زندگی کے اس شاندار موڑ پر قرآن کی طرف لوٹ آئیے۔

خوب اچھی طرح جان لیجئے کہ سفر حج روحانی طور پر بڑا پر کیف ہے لیکن جسمانی طور پر مشقت طلب ہے لہٰذا ابھی سے خود کو مشقت کا عادی بنا لیجئے۔ دوران سفر مشکلات اور تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کا عزم کر لیجئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’حاجی کو اس کی مشقت کے مطابق ثواب ملتا ہے۔‘‘ جو دعائیں مختلف مواقع پر پڑھنا مسننون ہیں انہیں اچھی طرح یاد کر لیجئے۔ خاص طور پر تلبیہ، تیسرا کلمہ اور بعض دوسری دعائیں۔

حج کے مسائل خوب اچھی طرح سے جانلیجئے اور لالہ تعالیٰ سے یہ توفیق مانگ لیجئے کہ اب رب کعبہ ہمیں مناسک حج اس طرح ادا کرنے کی توفیق فرما دے جس طرح تو راضی ہو جائے۔

اگر ممکن ہو تو صاحب طاعت و تقویٰ عالم دین کا ساتھ اختیار کریں اور جہلا اور فساق کے ساتھ سے پرہیرز کریں۔ صحبت صالح ترا صالح کند، صبت طالع ترا طالع کند

اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، کپڑے پہنتے، جوتی پہنتے حتیٰ کہ بیت الخلاجاتے اور فارغ ہوتے وقت بھی رسول اللہ ﷺ کے اسوئہ حسنہ کو پیش نظر رکھئے اور مسنون دعائیں یاد کریں۔

اپنے رزق کا جائزہ لے لیجئے۔ یاد رکھیے صرف حلال رزق سے ادا کیا ہوا عمرہ وحج قبول ہوگا۔

سود، جوئے، سٹے،لاٹری ، دو طرفہ آڑھت اور خریدہ و فروخت کی جملہ حرام صورتوں سے مکمل اجتناب کا عہد کر لیں۔

’’گالیاں سن کر دعائیں دینا‘‘ ہمارے رہبر و رہنما حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سنت ہے۔ اس پر عمل کریں اور یہ بات یقینی بنا ئیں کہ اس سفر میں آپ کے کسی ساتھی کو آپ سے اذیت نہ پہنچے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ کو اپنے تقویٰ کی بنا پر آپ سے بھی زیادہ عزیز ہو۔

سامان جتنا کم ہوگا راحت رہے گی تاہم مندرجہ ذیل سامان ساتھ لے لیجئے۔

ضروری دستاویزات بشمول شناختی کارڈ، 15 عدد مصدقہ تصاویر، بنک کی رسید، کمپیوٹر کا اطلاع نامہ اور ان کیش منٹ سرٹیفکیٹ، یہ کتابچہ، حکومت کی طرف سے موصول شدہ کتابیں۔ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ پر کوئی مستند کتاب، احرام کی چادروں کے 2 یا 3 سیٹ۔

رومال، جرابیں، بنیان، انڈر وئیر، سوئی دھاگہ، صابن، ہوائی چپل، تولیہ۔

خواتین بالوں پر باندھنے کے لئے دو عدد رومال، چار جوڑے کپڑے، اوڑھنے کے لئے بڑی چادر، برقع یا عبا لے کر جائیں۔

نسوار، چرس، ہیروئین، اختلافی مذہبی و سیاسی لٹریچر ہر گز ساتھ لے کر نہ جائیں۔ تیل یا گیس کے چولہے ساتھ لے جانا ممنوع ہے۔

کسی اور کا دیا ہوا سامان بلا وجہ آپ کو مشکل میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اس لئے ہر ممکن احتیاط لازم ہے۔

اگر آپ سرکاری سکیم کے تحت حج پر جا رہے ہیں تو روانگی سے دس پندرہ دن پہلے حاجی کیمپ جا کر ’’گردن توڑ بخار کا ٹیکہ‘‘ لگوائیں اور پیلے رنگ کا میڈیکل کارڈ حاصل کریں۔ اور اگر آپ پرائیویٹ سکیم کے تحت جا رہے ہیں تو آپ یہ ٹیکہ اپنے ٹور آرگنائزر سے لگوائیں گے۔

نمود ونمائش سے مکمل اجتناب کیجئے۔

Share the Work