عمرہ کرنے کا طریقہ

عمرہ کرنے کا طریقہ

اگر آپ نے حج تمتع کا ارادہ کیا ہو و اب آپ کو عمرہ ادا کرنا ہے۔

عمرہ کے افعال درج ذیل ہیں۔ عمرہ میقات سے احرام باندھنا: شرط طواف کعبہ: رُکن صفا و مروہ کی سعی: واجب حلق یا قصر: واجب

حجر اسود کی سیدھ میں سبز لائٹ او رحجر اسود کے درمیان) پہنچ کر آپ تلبیہ بند کر دیں اور طواف کی نیت کریں کہ : ’’اے اللہ! میں تیرے مقدس گھر کے طواف کی نیت کرتا ہوں، تو اسے میرے لئے آسان فرما دے اور ان سات چکروں کو جو میں محض تیری خوشنودی کے لئے لگاتا ہوں قبولیت عطا فرما۔‘‘

تکبیر تحریمہ کی طرح ہاتھ اٹھا کر ’’اللہ اکبر‘‘ کہیں اور ہاتھ چھوڑ دیں، اس کے بعد ’’بسم اللہ، اللہ اکبر‘‘ کہیں اور حجر اسود کا استلام کر کے طواف شروع کریں۔

حجر اسود پر خوشبو لگی ہوتی ہے اس لئے پہلی بار جب آپ احرام باندھے ہوئے ہوں تو بوسہ نہ لیں۔

یاد رکھیں حجر اسود کو بوسہ دینا اس وقت سنت ہے جب کسی کو تکلیف نہ ہو۔

اب آپ حجر اسود سے طواف شروع کریں۔ ’’رمل‘‘ کرتے ہوئے یعنی مونڈھے ہلا کر اور اکڑ کر حطیم کی طرف دعائیں پڑھتے ہوئے چلیں۔ اور حطیم کے باہر سے ہوتے ہوئے رکن یمانی پر پہنچیں۔ جہاں درج ذیل دعا پڑھتے ہوئے حجر اسود کی سیدھ میں پہنچیں جہاں آپ کا ایک چکر مکمل ہو جائے گا۔

رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝۲۰۱

اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں دنیا میں بھی خیر و خوبی دے اور آخرت میں بھی خیر و خوبی دے اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچا دے۔

ہر نئے چکر کے آغاز پر حجر اسود کا استلام کریں۔

حالت احرام میں پہلے تین چکر ’’رمل‘‘ کرتے ہوئے لگائے جاتے ہیں۔ باقی چار چکر عام رفتار سے لگائیں۔

خواتین نہ اضطباح کریں اور نہ رمل۔

اس طرح آپ سات چکر پورے کر لیں، ساتویں چکر کے اختتام پر استلام کریں۔ یہ آپ کا آٹھواں استلام ہوگا۔ اب آپ کا طواف مکمل ہو گیا ہے۔

طواف کے بعد آپ مقام ابراہیم پر پہنچ کر

دو رکعت نفل پڑھیں۔ اور یہ درج آیت پڑھیں۔ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّى۝۰ۭ

ہجوم کی وجہ سے اگر مقام ابراہیم کے قریب ممکن نہ ہو تو حرم شریف میں کہیں بھی یہ نفل پڑھے جا سکتے ہیں۔

طواف کے دو رکعت نفل ادا کرنے کے بعد آپ ملتزم پر آئیں۔ بیت اللہ شریف کی دیوار کا وہ حصہ جو حجر اسود اور دروازہ بیت اللہ کے درمیان ہے ملتزم کہلاتا ہے یہ قبولیت دعا کا خاص مقام ہے۔

ملتزم پر دعا سے فارغ ہو کر خوب پیٹ بھر کر آب زمزم پئیںاور درج ذیل دعا مانگیں۔

اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّ رِزْقًا وَّاسِعًا وَّ شِفَآئً مِّنْ کُلِّ دَآئٍ

طواف کے بعد آب زمزم پینے سے فارغ ہو کر آپ کو سعی کے لئے صفا و مروہ جانا ہے۔ ادھر جانے کے لئے آپ پہلے حجر اسود کی طرف آئیں اور طاف کے دوران جس طرح استلام کیا تھا پھر استلام کریں۔ یہ آپ کا نواں استلام ہوگا پھر صفا کی پہاڑی پر تھوڑا سا چڑھیں۔

اس کے بعد بیت اللہ شریف کو دیکھتے ہوئے سعی کی نیت کریں۔ اس طرح کہ : ’’اے اللہ!میں تیری رضا کے لئے صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر سعی کا ارادہ کرتا ہوں۔ اسے میرے لئے آسان فرما اور شرف قبولیت بخش دے۔‘‘

پھر تکبیر کہتے ہوئے مروہ کی طرف چلیں اور درج ذیل دعا پڑھیں۔

اَبْدَاُبِمَا بَدَاَ اللہُ تَعَالیٰ بِہٖ ’’اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جَنَاحَ عَلَیْہِ

اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا ط وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللہَ شَاکِرٌ عَلَیْم

صفا سے کچھ دور چل کر سبز رنگ کے دو ستون آپ کو نظر آئیں گے۔ ان دونوں ستونوں (میلین اخضرین) کے درمیان مرد درمیانہ قسم کی دوڑ لگائیں اور پھر عام رفتار سے مروہ پہنچیں جہاں آپ کا ایک چکر مکمل ہو جائے گا۔ اسی طرح ساتھ چکر پورے کریں۔ یاد رکھیں کہ صفا سے مروہ ایک چکر ہوتا ہے اور مروہ سے صفا دوسرا چکر۔

سعی کے بعد مروہ پر دعا مانگیں۔

اب آپ سر کےبال منڈوا دیں یا کتروا دیں۔ حلق (منڈوانا) افضل ہے۔ حضور ﷺ نے سر منڈوانے والوں کے لئے تین بار مغفرت کی دعا فرمائی ہے۔ اور کتروانے والوں کے لئے ایک بار۔ اگر آپ حج کے قریب مکہ مکرمہ آئیں تو عمرہ میں قصر کروا لیں اور حج میں بال منڈوالیں (حلق کروالیں)۔

عورتوں کے لئے سر کے بال منڈوانا حرام ہے۔ ان کو سارے بال تقریباً ایک انچ کٹوانے چاہئیں۔

سعی کے بعد بال منڈوانے یا کتروانے سے آپ کا عمرہ مکمل ہو گیا۔ اگر آپ کا حج تمتع کا ارادہ ہے تو اب آپ احرام کی جملہ پابندیوں سے آزاد ہو گئے ہیں۔ اب آپ نہائیں، دھوئیں، سلے کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں یہ سب کچھ جائز ہے۔

Share the Work