زیارت مدینہ منورہ

زیارت مدینہ منورہ

حج کے بعد سب سے افضل اور سب سے بڑی سعادت مدینہ منورہ کا سفر اور نبی اکرم ﷺ کے روضہ اطہر کی زیارت کرنا ہے۔

جو لوگ حج کی تیاری سے پندرہ دن پہلے تک مکہ مکرمہ پہنچ جاتے ہیں انہیں عمرہ کی ادائیگی کے فوراً بعد مدینہ منورہ بھیج دیا جاتا ہے۔

اگر آپ حج کے بعد مدینہ منورہ جا رہے ہوں تو مکہ مکرمہ میں آپ کا آخری کام طواف وداع ہونا چاہیے اور اگر آپ حج سے پہلے مدینہ شریف جا رہے ہوں تو واپسی پر ذوالحلیفہ (مدینہ منورہ سے 9 کلو میٹر کے فاصلے پر جگہ) سے عمرہ کے لئے احرام باندھنا ہر گز نہ بھولئے۔

جب آپ کا سفر مدینہ منورہ کی

جب آپ کا سفر مدینہ منورہ کی جانب شروع ہو جائے تو ابتداء سے آخر تک راستے میں کثرت سے درود شریف پڑھتے رہیں۔ افضل ترین درود شرف یہ ہے۔


Oاَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

Oاَللّٰہُمَّ بَارِکْعَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ


دربار رسالت میں حاضری کا جو ادب خود رب العالمین نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں سورہ حجرات کی آیت نمبر 2 میں سکھایا ہے اس پر پوری طرح عمل کیجئے۔


یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْـہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَــہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ

اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۝۲


اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو ۔

مدینہ منورہ پہنچ کر اپنا سامان اپنے ہوٹل میں رکھیں غسل کریں، عمدہ کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں اور پورے سکون اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتے ہوئے مسجد نبوی کی طرف روانہ ہو جائیں۔

بہتر ہے کہ مرد حضرات باب السلام سے مسجد نبوی میں داخل ہوں اور مسجد نبی میں داخلہ کی دعا پڑھیں اور اعتکاف کی نیت بھی کر لیں۔ خواتین علیحدہ دروازوں سے داخل ہوں گی۔

اگر ممکن ہو تو سب سے پہلے ’’ریاض الجنۃ‘‘ میں آئیں۔ یہ وہ جگہ ہے جو حضور ﷺ کے روضہ اطہر اور آپ کے منبر کے درمیان ہے یہاں دو نفل تحیۃ المسجد پڑھیں۔

دو رکعت نفل سے فارغ ہو کر اپنے اوپر تعظیم واجب کی کیفیت پوری طرح طاری کر کے روضہ اطہر پر حاضری دیں۔ نظر نیچی رکھیں۔ آواز پست رکھیں اور سلام عرض کریں۔

سلام کے بعد اپنے عزیزوں، دوستوں کا سلام پہنچائیں جنہوں نے آپ سے حضور ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کرنے کے لئے کہا ہو۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں باری باری سلام عرض کریں۔ اس کتابچے کے ناچیز مرتب کا غلامانہ سلام بھی حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کر دیں۔ احسان عظیم ہوگا۔

مسجد نبوی میں بیٹھ کر یہ عزم کیجئے کہ سید الانبیاء والمرسلین نے امت کو جس بات کا حکم دیا ہے یا جسے کرنے کی اجازت دی ہے اسے من و عن اسی طرح کریں گے اور جس بات سے منع فرمایا ہے اس سے رک جائیں گے۔

مسجد نبوی شریف میں ’’صفہ‘‘ کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہاں حضور ﷺ اپنے صحابہ کرام کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ گویا یہ اسلام کی سب سے پہلی یونیورسٹی ہے۔ یہاں یا مسجد نبوی شریف میں جہاں جگہ ملے تلاوت قرآن مجید کے علاوہ آپ سو کر اُٹھنے کے وقت سے لے کر سونے کے وقت کے تمام معمولات اور پیدا ہونے سے پہلے سے مرنے تک بعد تک تمام حالات سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول ادعیہ و اذکار یاد کریں۔

جب تک مدینہ منورہ میں قیام رہے روضہ اطہر کے سامنے کثرت سے حاضری دیتے رہیں۔

ریاض الجنۃ کی زیارت کو معمول بنا لیجئے۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ایک ایک لمحہ غنیمت سمجھیں۔ مسجد نبوی میں ہر وقت با جماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز کا اہتمام کیجئے۔

مدینہ منورہ کے درج ذیل متبرک مقامات کی زیارت کو ضرور جائیں۔

جنت البقیع: مدینہ منورہ کا قبرستان، جہاں حضور ﷺ کے کثیر صحابہ کرام آرام فرما ہیں۔

مسجد قبا: حضور نبی اکرم ﷺ کے ہاتھوں تعمیر کردہ سب سے پہلی مسجد اس مسجد کے لئے جانے سے پہلے گھر میں غسل کریں، وضو کریں اور مسجد میں دو نفل پڑھ کر ایک عمرہ کا ثواب کمائیں۔ نبی کریم ﷺ ہفتہ کے روز اس مسجد میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔

جبل اُحد: جہاں غزوہ اُحد پیش آیا۔

مسجد قبلتین: جہاں تحویل قبلہ کا حکم ہوا۔

مساجد ستہ: جہاں غزوہ احزاب پیش آیا۔

واپسی سے پہلے حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوں اور سلام وداع عرض کریں۔ دو رکعت نفل پڑھیں اور حاضری کی قبولیت کی دعا کریں۔

Share the Work